Tuesday, April 19, 2011

Urdu Short Story Nai Sadi Ka Azab By M.Mubin




افسانہ نئی صدی کا عذاب از:۔ ایم مبین

ٹینک شہر کی سڑکوں پر گولے برساتے آگے بڑھ ر ہے تھے ،

لوگ بے تحاشہ خود کو ٹینک کے گولوں سے بچانے کے لئے اِدھر ، اُدھر بھاگ رہے تھے ۔ گولے کبھی کسی بلڈنگ کی دیوار سے ٹکرا کر پھٹتے اور آگ کا ایک شعلہ سا بلند ہوتا، اِس کے بعد پھر دُھواں ۔ دھیرے دھیرے جب دُھواں صاف ہوتا تو بلڈنگ میں پڑے شگاف صاف دِکھائی دیتے ۔ کبھی کوئی خون میں لت پت زخمی یا پھر کوئی لاش

کبھی ٹینک کے گولے سڑک پر گر کر سڑک پر گڑھے پیدا کردیتے اور کبھی لوگوں کو زخمی کردیتے ، کبھی ٹینک مکانوں کی دیواروں کو ڈھاتے ، مکینوں کی پرواہ کئے بِنا مکانوں کو ملبے کا ڈھیر بناتے آگے بڑھ جاتے ۔

کبھی آسمان پر کوئی ہوائی جہاز نمودار ہوتا اور اس بستی پر بم برساتا آگے بڑھ جاتا ۔ بم بستی میں گر تے دھماکے اور شعلے بلند ہوتے ، دُھوئیں کا ایک بادل پوری بستی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ۔ جب دُھواں چھٹتا تو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل مکانات دِکھائی دیتے اور ان ملبے کے ڈھیروں پر ماتم کرتے مکین یا پھر کراہتے زخمی ۔

کبھی آسمان میں ہیلی کاپٹر نمودار ہوتے اور ان میں سوار سپاہی ہیلی کاپٹر سے نیچے سڑکوں اور گلیوں میں آتے جاتے لوگوں پر اندھا دُھند گولیاں برساتے ۔ گولیوں کی آوازیں سُن کر لوگ اِدھر اُدھر بھاگتے ، کچھ گولیاں کھا کر گرتے اور زمین پر گر کر تڑپنے لگتے تو کچھ گر کر ٹھنڈے ہوجاتے ۔

بندوق بردار سپاہی اندھا دُھند گولیاں برساتے آگے بڑھتے بھیڑ کبھی خود کو گولیوں سے بچاتی تو کبھی گولیاں برسانے والوں پر پتھراؤ کرتی ۔

گولیوں کا جواب پتھروں سے دیا جاتا ۔

ایک طرف لاشوں کے ڈھیر لگتے تو دُوسری طرف کبھی کوئی وَردی والا معمولی طور پر زخمی ہوتا ۔

" یہ ہے مقبوضہ فلسطین ۔ آئے دِن ہم یہاں سے آپ کے لئے اِسی طرح کی خبریں لاتے ہیں ...... "

ٹی وی کے اسکرین پر ایک چہرہ نمودار ہوا اور پھر اسکرین پرمنظرتبدیل ہوگیا۔

دو فلک بوس عمارتیں۔آسمان کی بلندیوں کوچھوتی ہُوئی سینہ تان کر کھڑی اِن اَمارت ، شان و شوکت ، عظمت اور قوت کا مظہر ۔

اچانک ایک ہوائی جہاز اُڑتا ہُوا آیا اور اِس سے ٹکرا گیا ۔

ایک پل میں ہی وہ عمارت شعلوں میں گھر گئی ۔ اب اِس عمارت سے صرف شعلے اور دُھواں اُٹھ رہا تھا۔

اُسی وقت دُوسرا ہوائی جہاز آکر دُوسری عمارت سے ٹکرایا اور وہ بھی شعلوں میں گھر گئی ۔

شعلوں میں گھری اس عمارتوں کی ایک ایک منزل ڈھنے لگی ، چاروں طرف صرف شعلے اور دُھواں تھا اور ان کے درمیان ڈھتی اپنے وجود کھوتی دو بلند شگاف عمارتیں ........

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

" داڑھی والا ....... "

" پکڑو ! اِسے بچ کر جانے نہ پائے ۔ "

" مارو اِسے مارو !..... یہ دہشت گرد ہے ۔ اِس ساری تباہی کا ذمہ دار ہے ۔ "

ایک بھیڑ اس کے پیچھے لگی ہوئی تھی اور وہ جان بچانے کے لئے اپنے جسم کی ساری قوت یکجا کرکے بھاگ رہا تھا ۔

لیکن اپنے آپ کو کب تک اس بھیڑ سے بچا پاتا ..... لوگ بھوکے کتوں کی طرح اس پر ٹوٹ پڑے ۔

کچھ لمحوں بعد ہی سڑک پر اس کا بے جان جسم پڑا ہُوا تھا ۔

اپنے ڈوبتے حواس کے ساتھ اس نے صرف ایک بار آخری لمحہ میں سوچا ۔

" جو کچھ میرے ساتھ ہُوا ہے ، اس وقت دُینا میں سیکڑوں ہزاروں لوگوں کے ساتھ ہورہا ہے ۔ "

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اذان ابھی مکمل بھی نہیں ہونے پائی تھی کہ پتھراؤ شروع ہوگیا ۔ وہ مستقل بھیڑ تھی جو کبھی پتھر برساتی توکبھی آگ کے گولے پھینکتی ۔ کبھی گولیاں داغی جاتی ۔ ایک حصہ تو پوری قوت لگا کر توڑا جانے لگا تو دُوسرے حصّے سے آگ کی لپٹیں اُٹھنے لگیں ......

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

" اے یو مسٹر ! ...... "

"کون؟ میں ... ! "

" ہاں تم ! طےّارے سے نیچے اُترو ..... "

" مگر کیوں ؟ مجھے تو پیرس جانا ہے .... "

" نہیں ! حفاظتی اقدام کے تحت ہمیں تمھیں طےّارے سے نیچے اُتارنا پڑے گا ۔ ہمیں شک ہے کہ تم دہشت پسند ہو اور اس طےّارے کا اغوا کرکے کوئی بہت بڑا دہشت گردی کا کارنامہ انجام دینے والے ہو ...... "

" اِس شک کی کوئی وجہ ..... ؟ "

" تمہارا یہ عربی لباس اور تمہاری یہ داڑھی ..... ! "

" کیا عربی لباس اور داڑھی دہشت گرد ہونے کی علامت ہے ۔ "

" ہم کو معلوم نہیں ۔ ہمیں ایسے ہی احکامات دئے گئے ہیں اور اس وقت ساری دُنیا میں اِس طرح کی احتیاطی کاروائیاں ہورہی ہیں ..... "

" مطلب کا پھیر ہے ۔ احتیاطی کاروائی کے نام پر دہشت گردی کی کاروائیاں ..... "

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تاریک آسمان گڑگڑاہٹ سے گونج رہا تھا اور پھر دھماکوں کی آوازیں گونجنے لگیں .... کبھی کبھی دھماکوں میں بے بسی بھری چیخیں بھی شامل ہوجاتی ......

" ابا ! کیا پھر حملہ ہُواہے ؟ "

" بیٹا ! اب یہ تو روز کا معمول ہے ۔ "

" لیکن ہم پر حملہ کیوں کیا جارہا ہے ؟ "

" اپنی اَنا کی تسکین کے لئے ..... معصوم لوگوں کا خون بہا کر .... اُن کے گھروں کو اُجاڑ کر ...... اُن کے ملک کو کھنڈر میں تبدیل کرکے ، اپنی طاقت آزما کر ..... اپنے جھوٹے غرور کا انتقام لیا جارہا ہے ۔ "

" بابا یہ کب تک چلے گا ؟ "

" جب تک اُن کی اَنا کی تسکین نہ ہوجائے ۔ "

" بابا ہمیں چار دِنوں سے کھانا نہیں ملا ، ہم بھوکے ہیں ۔ "

" اُنھوں نے بمباری سے ہمارے گھروں کو تو اُجاڑا ، اناج کے گوداموں ، اسپتالوں اور راحت کاری انجام دینے والے اداروں کے دفاتر کو بھی نہیں چھوڑا ہے بیٹا ..... "

" بابا آخر وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں ؟ "

" کہتے ہیں یہ ہماری دہشت گردی کے خلاف لڑائی ہے ، دہشت گردی کے خلاف جنگ ، دہشت گردی کرکے ...... ؟ "

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹرین کا جلا ہُوا ڈبہ اور جلی ہُوئی لاشیں بار بار ٹی وی پر دِکھائی جارہی ہیں ۔

لیڈروں کے اشتعال انگیز بیانات ٹی وی کے اسکرین پر اُبھر رہے ہیں ۔

جلی ہُوئی لاشیں ...

اشتعال انگیز بیانات...

عوام کے غم و غصے میں بھرے چہرے ...

جلی ہُوئی لاشیں ، ٹرین کا جلا ہُوا ڈبہ ...

اشتعال انگیز تقریریں ، بیانات ...

ہزاروں کی بھیڑہے جو اشتعال انگیز اور نفرت انگیزنعرے لگاتی بڑھ رہی ہے۔پولیس چپ چاپ تماشائی بنی اُن کومسکراتے ہُوئے دیکھ رہی ہے اور تمباکو مسل کر اپنے منہ میں ڈال رہی ہے۔

دوکانوں اور مکانوںکو آگ لگائی جار ہی ہے .....

لوگوںکو دہکتی آگ میں ڈالا جارہا ہے........

انہیں تر شولوں سے چھیدا جا رہا ہے..........

حا ملاؤں کے پیٹ کاٹ کر ان سے بچے نکالے جا رہے اور انہیں دہکتی آگ میں ڈالا جا رہا ہے

عصمتیں تاراج ہو رہی ہیں ۔

چن چن کر دوکانوں،مکانوں،کاروباری ٹھکانوں کوآگ لگائی جارہی ہے............

یہ جو کچھ ہو رہا ہے ردِّ عمل ہے۔ " اگر وہ عمل نہیں ہوتاتواس کا رد عمل نہیں ہوتا ۔"

"حالات پر قابو پا نے کے لیے ملٹری بلائی تو ہے لیکن ابھی شہر ملٹری کے حوالے نہیںکیا جا سکتا اس کی کچھ قانونی مجبوریاںہیں۔ ایک ایک ملٹری کی گاڑی کے ساتھ ایک ایک مجسٹریٹ دیا جائے گا۔اور حالات کو دیکھتے جب وہ مجسٹریٹ گولی چلانے کا آرڈردے گاتب ہی فوج گولی چلائے گی"

۔ سارا شہر فساد میں گھرا ہے۔مجسٹریٹوں کی تلاش جاری ہے۔ جب اتنے مجسٹریٹ مل گے تو پھرشہر کو فوج کے حوالے کیا جائے گا ۔

شہر میں لوٹ مار ،آتش زدگی،چھرے بازی اور ترشول بازی جاری ہے۔

لوگ مر رہے ہیں ، عورتوں کی عصمتیں لُوٹی جارہی ہیں ،بچے یتیم ہورہے ہیں ، مسجدوں ، درگاہوں کو مسمار کرکے وہاں منادر بنائے جارہے ہیں اوران میں ہنومان جی کی مورتیاں رکھی جارہی ہیں ۔

وحشیوں کا ٹولہ پوری پوری بستیوں کو جلا کر خاک کر رہا ہے ......

ان بستیوں کے مکینوں کو آگ میں بھون رہا ہے ......

انتظامیہ تماشا ئی ہی نہیں ہے ، ان تمام واقعات میں پوری طرح ملوث ہے .....

نئے قائدین کے چہرے ابھر رہے ہیں۔

ایڈوانی،مودی،توگڑیا،با ل ٹھا کرے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک کیمپ ...

اِس میں لاکھوں لوگ مقید .....

لُٹے ہُوئے ، شکستہ ، زخموں سے چُور .....

کسی نے اپنا پورا خاندان کھو دیا ہے ، تو کسی کی بہن لاپتہ ہے ، تو کسی کا جوان بیٹا ترشولوں سے چھید کر آگ میں بھون ڈالا گیا ۔

بے یار و مدد گار ، بھوکے پیاسے ۔

وہاں نہ پینے کے لئے پانی ہے اور نہ کھانے کے لئے کچھ ..... نہ علاج کے لئے دوائیاں ......

لیکن پھر بھی وہ شکر ادا کر رہے ہیں ۔ اس جگہ وہ اپنے آپ کو محفوظ محسوس کررہے ہیں ۔

" سرکار اِس طرح کے کیمپوں کی ذمہ داری نہیں لے سکتی ، اِس طرح کے کیمپ اَمن و اَمان کے لئے خطرہ ہیں ..... "

" اِس طرح کے کیمپ دہشت گردوں کے اَڈّے ہیں ۔ اِن کیمپوں میں دہشت گرد پناہ لے رہے ہیں ۔ "

یہ کیمپ ملک دشمن سرگرمیوںکے اڈّے بنتے جا رہے ہیں۔ یہ آبادی بڑھانے کے کا رخانے ہیں.......

لوٹ مار،آتش زدگی،قتل و خون جار ی ہے۔

اِن لوگوں کو غصہ نہیں آتاہے، لیکن جب غصہ آتاہے تو پھر وہ غصہ جلدی ٹھنڈانہیں ہو تا ہے۔ جب تک غصہ ٹھنڈا نہیں ہو تا یہ چلتا رہے گا.......

گورو یا تراجاری ہے۔

لوگ یاترامیں شامل اشتعال انگیز نعرے لگا رہے ہیں ۔

یاترا کا میر کارواں اشتعال انگیز اور نفرت انگیز تقریر کر رہا ہے ۔

لاکھوں لوگوں کو بے گھر ... اُن کی زندگی کا سرمایہ اُجاڑ کر ... اُن معصوم لوگوں کو قتل کرکے ، بچوں کو یتیم کرکے ، عورتوں کو بیوہ اور عصمتوں کو تاراج کرکے ، اُن کا جشن منایا جا رہا ہے ۔

جگہ جگہ گورو یاترائیں نکالی جارہی ہیں ۔

اپنے اِن کارناموں پر شرم نہیں گورو کیا جارہا ہے ۔

رام ، کرشن ، بدھ ، مہاویر کی نئی تعلیم ، نئی نسل کو دی جارہی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

" اے رُک جا .... کیا نام ہے ؟ "

" عبدا لرحیم ! "

" پکڑ لو اِسے ، یہ کوئی دہشت گرد لگتا ہے ۔ اِس کی داڑھی اِس بات کا ثبوت ہے ۔ "

" نہیں صاحب ! میں دہشت گرد نہیں ہُوں ۔ میں تو ایک تعلیم یافتہ نوجوان ہُوں ۔ "

" تعلیم یافتہ نوجوان ہی آج کل ملک دُشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں ۔ جب تم پر پوٹا لگا یا جائے گا اور کئی سالوں تک جب تم جیل میں سڑوگے تو اگر تم دہشت گرد نہیں بھی ہو تو دہشت گرد بن جاؤگے ۔ "

" اِسی طرح دہشت گرد بنائے جاتے ہیں ۔ "

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پولس کی کئی جیپیں آکر رُکیں اور اُن میں سے مسلح پولس کے ساتھ ساتھ کمانڈوز بھی اُترے اور اُنھوں نے پوری بستی کو اپنے گھیر ے میں لے لیا ۔

دیکھتے ہی دیکھتے پوری بستی ایک پولس کیمپ میں تبدیل ہوگئی ۔ جو بھی سامنے آتا اُسے روک کر بندوق کی نوک پر اُس سے طرح طرح کے سوالات پوچھے جاتے اور بلا کسی شک و شبہ کے جس کو وہ چاہتے ہتھکڑی ڈال کر بیٹھا دیتے ۔

عورتوں کی نقابیں اُٹھا اُٹھا کر اُن کے چہرے دیکھے جاتے ، چہروں پر سفّاک نظریں ڈالی جاتیں ، تلاشی کے نام پر اُن کے جسم کو چھو کر لذت حاصل کی جاتی ۔

چلتی گاڑیوں کو روک کر اُن میں بیٹھے مسافروں کو نام پوچھ پوچھ کر اُتارا جاتا اور ہتھکڑیاں پہنا کر جیپ میں بیٹھا دیا جاتا ۔

گھروں میں گھس کر بندوق کی نوک پر گھر کے مکینوں کو دہشت زدہ کیا جاتا اور تلاشی کے نام پر گھر کی ہر چیز تہس نہس کردی جاتی ۔

مکانوں کے بند دروازوں کو لات مار مار کر کھولا جاتا ۔ جو دروازے لات مارنے سے بھی نہیں کھل پاتے اُنھیں توڑ دیا جاتا ۔

جن دروازوں کو توڑنے کے بعد مکان میں داخل ہوتے ، اُن مکینوں پر آفت آجاتی ۔ مکان کے تمام افراد یرغمال بنا لئے جاتے ۔ اُس سے بچنے کے لئے لوگ خوف زدہ ہو کر ہاتھ اُٹھا کر ایک قطار میں کھڑے ہوجاتے ۔

قطار میں کھڑے لوگوں کے ساتھ جانوروں کی طرح برتاؤ کرتے ہُوئے طرح طرح کے سوالات کئے جاتے اور اُنھیں زد و کوب کیا جاتا ۔

" یہ سب کیا ہورہا ہے ؟ اور ہمارے ساتھ ایسا کیوں کیا جارہا ہے ؟ "

" ہمیں پتہ چلا ہے کہ یہ بستی دہشت گردوں کا اڈّا ہے ، حالیہ بم دھماکوں میں جن دہشت گردوں کا ہاتھ ہے اُن کا تعلق اِسی بستی سے ہے ۔ اور یہ کاروائی ہماری اُن دہشت گردوں کو تلاش کرنے کی مہم کا حصہ ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

" ہم دُنیا سے دہشت گردی کو اُکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں ۔ ہماری جنگ دہشت گردی کے خلاف ہے ، ہم جس ملک کو دہشت گرد قرار دے دیں ۔ دُنیا کو ماننا ہوگا کہ وہ ملک دہشت گر د ہے اور ہم اُس ملک کے خلاف جو بھی کاروائی کریں ، ہماری کاروائی دہشت گردی کے خلاف جنگ ہوگی ۔ "

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات بھر آسمان سے بم برستے رہے ۔ مکان ، دُکان ، دفاتر ، سڑکیں ، چوراہے ، سب کچھ اِن بموں کی زد میں آکر تباہ ہوتے رہے ۔ دہشت سے گھروں میں سمٹے لوگ بموں کو پھٹتے اور اُن سے پھیلتی تباہی کو دیکھتے اپنی جانیں بچانے کی کوشش کرتے رہتے ۔

روزانہ کا معمول رہا ۔

ساری دُنیا میں مظاہرے ہوتے رہے ۔

جنگ بند کی جائے ، یہ جنگ ظلم ہے ، ہم امن چاہتے ہیں ، معصوم لوگوں کی جانیں نہ لی جائیں ، جو لوگ اِس جنگ میں ملوث ہیں وہ شیطان ہیں ۔

لیکن ساری دُنیا کے مظاہروں کا دو شیطانوں پر کوئی اثر نہیں ہوا ۔

وہ ساری دُنیا کے مظاہروں کو نظر اندازکرکے دہشت گردی کے ذریعہ دہشت پھیلاتے رہے ۔ اور اپنی کاروائی کو درست قرار دیتے ہُوئے اپنی فتوحات کے شازیانے بجاتے رہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سب کچھ ختم ہوگیا تھا ۔

اب ایک خاموشی تھی ، ایک سنّاٹا ۔

چاروں طرف ملبے کے ڈھیر ہیں ۔ ٹوٹی ہُوئی عمارتوں سے دُھواں اُٹھ رہا ہے ۔ اُن ملبوں کے ڈھیر پر بیٹھ کر کچھ لوگ ماتم کررہے ہیں ، تو کچھ اپنی فتح ، اپنی آزادی کا جشن منا رہے ہیں ۔ کچھ اِن ملبوں میں اپنے عزیز و اقارب کو تلاش کررہے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنگ ختم ہوگئی ۔ لیکن ہماری دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے ۔ یہ اُس وقت تک ختم نہیں ہوگی ، جب تک دُنیا سے آخری دہشت گرد ختم نہ کردیا جائے گا ۔ "

نئے میزان مرتب کئے جارہے تھے ۔ نئے پیمانے ڈھالے جارہے تھے ۔

ایسا محسوس ہوتا تھا دہشت گردی کے خلاف جنگ کی یہ دہشت گردی نئی صدی کا سب سے بڑا عذاب بن گئی ہے ۔

Add:-
M.Mubin
303- Classic Plaza, Teen Batti
BHIWANDI – 421 302
Dist. Thane ( Maharashtra)

0 comments:

Post a Comment

 
Copyright © Urdu Short Story Nai Sadi Ka Azab By M.Mubin. All rights reserved.
Blogger template created by Templates Block | Start My Salary
Designed by Santhosh